جموں، 3 ؍مارچ (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) پاکستانی سپاہیوں نے جموں کشمیر کے راجوری میں کنٹرول لائن پر جنگ بندی کا ایک بار پھر خلاف ورزی کی جس کے بعد ہندوستانی فوج نے سخت اور مؤثر جواب دینے میں کوئی چوک نہیں کی۔سرحد پار سے نوشیرا میں دوپہر قریب ساڑھے 12 بجے گولاباری شروع ہوئی جس نے سرحد پر تقریبا 12 گھنٹے کی امن کو ختم کر دیا۔ یہ خلاف ورزی منگل کو بھارت کی جانب سے پاکستان میں خیبر پختونخوا صوبے کے بالا کو ٹ میں جیش محمد کے ٹھکانوں پر کی گئی کارروائی کے بعد بڑھ گئی ہے ۔ پونچھ ضلع کے نشیبی علاقہ کرشنا وادی سیکٹر میں جمعہ کی رات بھاری گولاباری میں ایک لڑکی اور اس کے دو بچوں کی موت ہو گئی تھی اور دو فوجیوں سمیت کئی دیگر زخمی ہو گئے تھے۔فائرنگ میں ہندوستان کی طرف مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر چار ہو گئی ہے۔ترجمان نے بتایا کہ پاکستان نے اپنا ناپاک منصوبہ جاری رکھا اور دوپہر ساڑھے 12 بجے کنٹرول لائن پر نوشیرا میں اشتعال انگیز گولہ باری کی اور چھوٹے ہتھیاروں سے فائرنگ کی۔انہوں نے بتایاکہ ہندوستانی فوج نے مضبوط اور مؤثر جواب بھی دیا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ اس فائرنگ میں بھارت کی جانب کسی جانی نقصان کی خبر نہیں ہے۔دریں اثنا، حکام نے بتایا کہ کنٹرول لائن کے پانچ کلومیٹر کے دائرے میں آنے والے تمام تعلیمی ادارے احتیاطی اقدام کے طور پر ہفتہ کو پانچویں دن بھی بند رہے۔انہوں نے بتایا کہ بھارتی فوج ہائی الرٹ پر ہیں اور کنٹرول لائن اور بین الاقوامی سرحد پر قریبی نظر رکھ رہے ہیں۔پولیس کے ایک افسر نے بتایا کہ جمعہ کی رات قریب 11 بجے سرحد پار سے ہو رہی گولہ باری رک گئی جس پونچھ ضلع ایک گاؤں میں 24 سالہ روبانہ کوثر، اس کا پانچ سال کا بیٹا فیضان اور نو ماہ کی بیٹی شبنم کی موت ہو گئی تھی اور اس کا شوہر محمد یونس زخمی ہو گیا تھا۔افسر نے بتایا کہ سرحد پر واقع دیہات کے باشندے گھبراہٹ میں ہیں اور اپنا گھر بار چھوڑ دوسرے مقامات کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔